12 اکتوبر، 2026، 3:58 PM

مغربی ایشیاء میں دشمن کا من پسند علاقائی نظام قائم نہیں ہونے دیں گے، ترجمان مسلح افواج

مغربی ایشیاء میں دشمن کا من پسند علاقائی نظام قائم نہیں ہونے دیں گے، ترجمان مسلح افواج

ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو امریکہ کے ناکارہ سکیورٹی حصار سے نکل جانا چاہیے، کیونکہ واشنگٹن خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے سے بھی عاجز ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک پیغام میں تاکید کی ہے کہ ہم مغربی ایشیاء میں دشمن کے مطلوبہ علاقائی نظام کو دوبارہ قائم نہیں ہونے دیں گے۔ خطے کے ممالک کو امریکہ کے ناکارہ سکیورٹی حصار سے نکل جانا چاہیے۔

جنرل شکارچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ مغربی ایشیاء میں اپنے ہی پیدا کردہ دلدل سے نکلنے کے لیے، جس میں وہ روز بروز مزید دھنستا جا رہا ہے، ایندھن کی اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سمندری ڈاکہ زنی، چوری اور ایندھن کی اسمگلنگ امریکہ کی یقینی شکست کو روک سکتی ہے؟ ہرگز نہیں!

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر تسلط کے حوالے سے امریکی حکام کا پروپیگنڈا اور مسلسل جھوٹ میدان کی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ نفسیاتی جنگ اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے دعوے واشنگٹن کو اس کی ناکام حکمت عملیوں کے نتائج سے بچا سکتے ہیں۔

جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ شکست کو پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے چھپایا نہیں جا سکتا اور میدان کی حقیقتوں کو شور و غوغا سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی حکام کی جانب سے تہذیب، تاریخ اور ایرانی قوم کے بارے میں حالیہ توہین آمیز بیانات نہ صرف ان کی بے بسی کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ ایرانی قوم کے پختہ عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم متعدد بار امریکی اور صیہونی دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کو اپنی طاقت اور ارادے کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیاری اور صلاحیتوں کے ساتھ قومی مفادات، ملکی سلامتی اور اسلامی ایران کی بقا کا فیصلہ کن دفاع کر رہی ہیں اور پوری قوت سے حملہ کرکے دشمنوں پر شکست مسلط کریں گی۔

ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے کہا کہ خطے کے ممالک کو امریکہ کے ناکارہ سکیورٹی حصار سے نکل جانا چاہیے۔ واشنگٹن خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانے سے بھی عاجز ہے، چہ جائیکہ وہ دوسروں کی سلامتی کا انتظام کرے۔ امریکہ کے نام نہاد سکیورٹی حصار پر انحصار جاری رکھنے کا نتیجہ ایک غلط حساب اور فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک عملی میدان میں امریکہ کے نام نہاد سکیورٹی حصار کی غلط کارکردگی کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس تجربے سے سبق سیکھیں اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بوسیدہ رسی کے سہارے خود کو موت کے کنویں میں نہ گرائیں۔ ہم مغربی ایشیاء میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے مطلوبہ علاقائی نظام کو دوبارہ قائم نہیں ہونے دیں گے۔

News ID 1942058

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha